دو نمازوں کو جمع کرنے سے متعلقہ سوالات

سوال 327866

بارش، شدید سردی اور تیز ہوا کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنے کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح وہ باخبر اور سمجھ دار مقتدی جو یہ جانتا ہو کہ شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے جمع درست نہیں، خاص طور پر جمعہ کے دن، تو اس کے لیے درست طرزِ عمل کیا ہے: کیا وہ پہلی صف سے نکل جائے، یا وہیں بیٹھا رہے؟ اس لیے کہ اگر وہ ان کے ساتھ نفل کی نیت سے جمع کی جانے والی نماز پڑھے تو اندیشہ ہے کہ لوگ اس کے اس عمل کی اقتدا کرنے لگیں گے۔ اور اگر کوئی اس سے کہے کہ تمہارا یہ طرزِ عمل فتنے کا سبب بن سکتا ہے، تو اس کا جواب کیا ہونا چاہیے؟ نیز کیا سردی، تیز ہوا اور بارش کے متوقع ہونے کی بنیاد پر ظہر کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنا درست ہے؟

اور کیا یہ درست ہے کہ عصر کو ظہر کے ساتھ شافعیہ کی شرائط کے مطابق جمع کیا جائے، اور عشاء کو مغرب کے ساتھ مالکیہ یا حنابلہ کی شرائط پر جمع کر لیا جائے؟

جواب کا متن

اول: بارش اور برف باری کی وجہ سے ظہر کے ساتھ عصر اور مغرب کے ساتھ عشاء کی نماز جمع کرنا جائز ہے۔۔

بارش، برف باری ، اولے، شدید سردی اور ٹھنڈی تیز ہوا کی وجہ سے ظہرین (ظہر اور عصر)اور عشائین (مغرب اور عشا) کی نماز جمع کر کے ادا کرنا جائز ہے۔

دوم: جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنا جائز نہیں ۔

جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ شریعت میں جمع کی اجازت صرف ظہر اور عصر کے درمیان وارد ہوئی ہے، جبکہ جمعہ ایک مستقل فرض نماز ہے، جمعہ کی نماز ظہر کی نماز نہیں ہے۔
یہی موقف فقہائے حنابلہ کا ہے، اور اسی کے مطابق اس ویب سائٹ پر جواب دیا گیا ہے۔
اس بارے میں سوال نمبر (26198) کا جواب بھی قابلِ رجوع ہے۔

لہٰذا اگر مسجد میں لوگ جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز جمع کریں، تو آپ ان کے ساتھ نمازیں جمع مت کریں بلکہ الگ ہو جائیں۔ اس میں کوئی فتنے کی بات نہیں ہے، اور اگر بعد میں آپ یہ وضاحت کر دیں کہ آپ اس قول پر عمل کرتے ہیں جو اس طرح جمع کو ناجائز قرار دیتا ہے، تو یہ بھی مناسب اور درست طرزِ عمل ہے۔

سوم: بارش کے محض امکان یا اندیشے کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں۔

بارش کے محض امکان یا اندیشے کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے، نہ ظہر کے ساتھ عصر کی نماز جمع کی جا سکتی ہے اور نہ مغرب کے ساتھ عشاء کی نماز۔ البتہ اگر شدید ٹھنڈی ہوا موجود ہو، تو یہ نمازوں کو جمع کرنے کے لیے معتبر عذر شمار ہوتی ہے۔

چنانچہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’درست بات یہ ہے کہ جب ایسی شدید ٹھنڈی ہوا ہو جو لوگوں کے لیے مشقت کا باعث بنے، تو یہ جمعہ اور با جماعت نماز چھوڑنے کا بھی عذر بن جاتی ہے، اور یہ صرف بارش سے ہونے والی اذیت کے عذر سے زیادہ قوی عذر ہے۔ اس بات کو وہی شخص اچھی طرح جان سکتا ہے جس نے خود اس کیفیت کو جھیلا ہو۔ اس کے ساتھ سردی کی وجہ سے ایک اور مشقت جنم دیتی ہے، اور وہ یہ کہ عموماً سردی میں پیشاب کی حاجت زیادہ ہوتی ہے، جس سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے، پھر جب وہ وضو کرتا ہے تو ٹھنڈک کی وجہ سے وضو کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے، خاص طور پر پہلے زمانے میں، جب پانی گرم کرنے کے آلات موجود نہیں تھے، بلکہ بعض اوقات پانی انتہائی ٹھنڈا ہوتا تھا۔ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ جب اصل علت ’’ مشقت ‘‘ہے، تو یہ مشقت شدید ٹھنڈی ہوا میں پائی جاتی ہے۔ البتہ ہلکی، معمول کی یا گرم ہوا میں ایسی کوئی مشقت نہیں ہوتی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع (4/319)

آپ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی یہ سوال کرے کہ شدید اور ٹھنڈی ہوا کی حد کیا ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ شدید ہوا سے مراد وہ ہوا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہو۔ جو ہوائیں عام طور پر چلتی رہتی ہیں، وہ نمازیں جمع کرنے کا عذر نہیں بن سکتیں، خواہ ٹھنڈی ہی کیوں نہ ہو۔ اور ٹھنڈک سے مراد وہ ٹھنڈ ہے جو لوگوں کے لیے واقعی مشقت کا باعث بنے۔
اور اگر کوئی یہ کہے کہ اگر ہوا کے بغیر سخت سردی ہو تو کیا نمازیں جمع کرنا جائز ہے؟
تو ہم کہتے ہیں: نہیں؛ کیونکہ محض سخت سردی میں انسان زیادہ کپڑے پہن کر اس سے بچاؤ کر سکتا ہے۔ لیکن اگر سخت سردی کے ساتھ ہوا بھی ہو، تو سردی کپڑوں کے اندر تک داخل ہو جاتی ہے۔
اور اگر فرض کریں کہ شدید ہوا ہو لیکن سردی نہ ہو، تو ایسی صورت میں بھی جمع جائز نہیں، کیونکہ محض تیز ہوا میں عام طور پر مشقت نہیں ہوتی۔
البتہ اگر ایسی تیز ہوا ہو جو گرد و غبار اٹھائے، جس سے انسان کو واقعی اذیت اور مشقت لاحق ہو، تو یہ بھی مشقت کے اسی عمومی قاعدے میں داخل ہو جائے گی، اور اس صورت میں جمع کرنا جائز ہو گا۔
اگر کوئی یہ پوچھے کہ نمازیں جمع کرنے کو شدید ہوا، بارش اور کیچڑ کی حالت میں عشاءین (مغرب و عشاء) کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟
تو ہم اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بارش والی رات میں مغرب اور عشاء کی نماز کو جمع فرمایا۔
اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، اور اسے نجّاد نے روایت کیا ہے، نہ کہ امام بخاری نے، بخاری کا تذکرہ الروض المربع کے بعض نسخوں میں غلطی کی وجہ سے مذکور ہے۔
مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا رات میں جمع کرنا اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ دن میں جمع نہ کیا جا سکے، کیونکہ نمازیں جمع کرنے کی اصل علت مشقت ہے۔
اسی لیے اس مسئلے میں صحیح بات یہ ہے کہ ان عذروں کی بنا پر ظہر کے ساتھ عصر کو بھی جمع کیا جا سکتا ہے، جیسے مغرب کے ساتھ عشاء کو جمع کیا جاتا ہے۔ اصل علت مشقت ہے، پس جب بھی دن ہو یا رات، مشقت پائی جائے، تو جمع کرنا جائز ہو گا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع (4/392)

چہارم: بارش کی صورت میں ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کرنا جائز ہے۔

شافعی فقہائے کرام کے قول کے مطابق بارش کی صورت میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور یہی موقف دلیل کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے۔ البتہ جو شخص اس موقف پر عمل کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ جمع سے متعلق ضوابط اور شرائط کا لحاظ رکھے، جب تک مخالف قول کی ترجیح واضح نہ ہو اس وقت تک اس پر عمل پیرا رہے۔

اور اگر وہ بارش کی وجہ سے مغرب اور عشاء کو جمع کرے، تو اس صورت میں وہ جمہور فقہاء یعنی مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے موقف پر عمل کر رہا ہو گا۔ اگرچہ ان ائمہ کرام کے درمیان جمع کے بعض ضوابط اور شرائط میں اختلاف پایا جاتا ہے، لہٰذا اگر وہ شخص مختلف موقفوں میں ترجیح دینے کی اہلیت رکھتا ہو تو راجح موقف پر عمل کرے، اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو تو جس فقہی مسلک کی اس نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہو اور جس کا وہ پیروکار ہو اسی کے مطابق چلے۔
اور اگر اس کی اپنی کوئی فقہی نسبت ہو، یا اس کے علاقے کے لوگ کسی خاص فقہی مسلک پر چلتے ہوں، تو وہ اسی کی پیروی کرے، اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو ان فقہی مسالک میں سے کسی ایک کے موقف پر عمل کرنا جائز ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

مجبور افراد

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android