مشمولات
اول: استحاضہ سے کیا مراد ہے؟
استحاضہ اس خون کو کہتے ہیں جو حیض بننے کے قابل نہ ہو، مثلاً وہ خون جو حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت تک تجاوز کر جائے — اور جمہور کے نزدیک حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے — یا وہ خون جو حیض کی کم از کم مدت سے کم ہو — اور جمہور کے نزدیک کم از کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے۔
’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘ (جلد 3، صفحہ 197) میں ہے:
’’لغت میں استحاضہ اس مصدر کو کہتے ہیں جو ’استحاضتِ المرأة‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے کہ عورت مستحاضہ ہو گئی۔ مستحاضہ وہ عورت ہے جس کا خون جاری رہتا ہے اور بند نہیں ہوتا، اور وہ معلوم ایام میں نہیں ہوتا، نہ یہ حیض کی رگ سے آتا ہے، بلکہ ایک رگ سے آتا ہے جسے ’العاذل‘ کہا جاتا ہے۔
حنفیہ نے استحاضہ کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ ایسا خون ہے جو ایک رگ کے پھٹنے سے نکلے، اور رحم سے نہ ہو۔
شافعیہ نے اس کی تعریف یہ کی ہے کہ یہ بیماری کا خون ہے جو رحم کے نچلے حصے کی ایک رگ سے بہتا ہے، جسے ’العاذل‘ کہا جاتا ہے۔ رملی رحمہ اللہ کہتے ہیں: استحاضہ وہ خون ہے جو عورت حیض اور نفاس کے خون کے علاوہ دیکھے، خواہ وہ ان دونوں کے ساتھ متصل ہو یا نہ ہو۔ اور اس کی مثالوں میں اس خون کو بھی شامل کیا ہے جو کم عمر لڑکی دیکھتی ہے۔‘‘ ختم شد
اور شیخ عبد اللہ بن عقیل رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’مستحاضہ وہ عورت ہے جو ایسا خون دیکھے جو نہ حیض کے لائق ہو اور نہ نفاس کے، جیسے وہ عورت جس کا خون حیض کی زیادہ مدت سے بڑھ جائے، یا ایک دن اور ایک رات سے کم ہو، یا وہ خون جو عورت نو سال کی عمر پوری ہونے سے پہلے دیکھے، یا وہ خون جو حاملہ عورت اپنے حمل کے دوران دیکھے، برخلاف اس خون کے جو ولادت سے دو یا تین دن پہلے دردِ زہ کی علامت کے ساتھ آئے، اور اس جیسی صورتوں میں تو وہ نفاس شمار ہوتا ہے، اور اس سے عدت میں کمی نہیں آتی۔
پس یہ تمام صورتیں اور ان کے ہم معنی امور استحاضہ میں شامل ہیں، اور دمِ فاسد اس سے زیادہ عام ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’فتاویٰ الشیخ ابن باز ‘‘ (جلد 1، صفحہ 88)
دوم: حیض سے طہر حاصل ہونے کے بعد آنے والے خون، یا کدورت اور زردی سے متعلق احکام
اگر حیض سے پاکی کے بعد خون، یا کدورت، یا زردی آئے، تو اس کی دو حالتیں ہیں:
1-اگر آنے والا خون یا کدورت یا زرد سائل مسلسل ہو، اور کسی معلوم وقت کے لیے اتنا بھی منقطع نہ ہوتا ہو کہ اس میں وضو اور نماز ادا کی جا سکے، تو ایسی صورت میں عورت پر لازم ہے کہ وہ استنجا کرے، پیڈ وغیرہ باندھ لے، اور ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرے، اور نماز ادا کرے، خواہ نماز کے دوران خون نکلتا رہے۔ وہ ایک وضو سے فرض اور نفل جتنی چاہے نمازیں پڑھ سکتی ہے، اور اگر اس سے کوئی چیز نکلی ہو تو اگلی نماز کا وقت داخل ہونے پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔
’’شرح منتهى الإرادات‘‘ (جلد 1، صفحہ 120) میں ہے:
’’ہر وہ شخص جس کا حدث دائمی ہو، جیسے مستحاضہ عورت، اور وہ شخص جسے پیشاب کا قطرہ ٹپکنے کی بیماری ہو، یا مذی نکلتی ہو، یا ریح (ہوا) خارج ہوتی رہتی ہو، یا ایسا زخم ہو جس کا خون نہ رکتا ہو، یا ناک سے مسلسل خون آتا ہو:
اس پر لازم ہے کہ وہ (حدث سے آلودہ جگہ کو دھوئے) تاکہ اس نجاست کو زائل کر دے، اور (اس پر پٹی باندھے) یعنی حسبِ استطاعت نکلنے والی چیز کو روکنے کا انتظام کرے، جیسے روئی رکھنا اور اسے پاک کپڑے سے باندھنا ۔۔۔اور (ہر نماز کے لیے ان دونوں کو دہرانا لازم نہیں) یعنی دھونا اور پٹی باندھنا، (اگر اس نے کوتاہی نہ کی ہو)، کیونکہ جب حدث غالب اور طاقتور ہو تو اس سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں ہوتا ۔۔۔اور (وہ ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرے) دائمی حدث کی صورت میں (اگر اس سے کچھ نکلے)۔‘‘ مختصراً ختم شد
2- اور اگر آنے والا خون یا کدورت یا زردی کسی معلوم وقت کے لیے منقطع ہو جاتا ہو، اور وہ وقت اتنا ہو کہ اس میں وضو کر کے نماز ادا کی جا سکے، تو عورت پر لازم ہے کہ وہ انتظار کرے، اور نماز کو حالتِ طہارت میں ادا کرے۔ پھر اگر نماز کے دوران اس سے کچھ نکل آئے، تو وہ وضو اور نماز دونوں کو دوبارہ ادا کرے گی۔
’’مطالب أولي النهى‘‘ (جلد 1، صفحہ 266) میں ہے:
’’اگر کسی شخص کو دائمی حدث (یعنی ایسا عذر جس میں وضو ٹوٹتا رہتا ہو) کے درمیان ایک ایسا وقفہ عادتاً ملتا ہو جو عبادت کے لیے کافی ہو، یعنی اس میں وضو اور نماز ادا کی جا سکتی ہو، تو اس پر لازم ہے کہ فرض نماز اسی وقت میں ادا کرے… کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ نماز اس طریقے پر ادا کرے جس میں کوئی عذر یا مجبوری باقی نہیں رہتی، لہٰذا اسی وقت میں ادا کرنا متعین ہو جاتا ہے، جیسے اس شخص کے لیے ہوتا ہے جسے کوئی عذر لاحق نہ ہو۔
اور اگر یہ دائمی حدث اتنے مختصر وقت کے لیے رُکے کہ اس میں وضو اور نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو، تو اس رُکنے کا کوئی اعتبار نہیں؛ البتہ یہ رکاوٹ نماز شروع کرنے اور اسے جاری رکھنے سے مانع ہو سکتی ہے، اس احتمال کی وجہ سے کہ یہ حالت دوبارہ جاری رہے۔
اسی طرح اس وقفے کا بھی کوئی اعتبار نہیں جو غیر منضبط ہو، یعنی کبھی پہلے ہو جائے، کبھی بعد میں، کبھی کم ہو، کبھی زیادہ، کبھی ہو اور کبھی نہ ہو، اور اس میں کوئی مستقل عادت نہ ہو، چاہے وہ اتصال (مسلسل جاری رہنے) کی صورت میں ہو یا انقطاع (رکنے) کی صورت میں۔ تو ایسی صورت اس عورت کی طرح ہے جسے خون کے جاری رہنے کی عادت ہو؛ اس کے وضو کے ٹوٹنے کا حکم صرف اسی وقفے میں معتبر ہوگا جو وضو اور نماز دونوں کے لیے کافی ہو، نہ کہ اس وقفے میں جو اس کے لیے کافی نہ ہو۔
اور جس عورت کی عادت یہی ہو کہ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا، تو محض اس کے رک جانے سے اسے نماز شروع کرنے یا جاری رکھنے سے نہیں روکا جائے گا، جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ یہ وقفہ وضو اور نماز کے لیے کافی ہے؛ کیونکہ اس وقفے کا کوئی باقاعدہ معیار نہیں ہوتا، اور اگر اس کو لازم پکڑا جائے تو اس سے سخت تنگی اور مشقت پیدا ہو گی۔‘‘ ختم شد
سوم: جب عورت سفید رطوبت دیکھ لے تو وہ حیض سے پاک ہو جاتی ہے
جب عورت سفید رطوبت دیکھ لے تو وہ حیض سے پاک شمار ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر خون، یا کدورت، یا زردی آئے اور وہ سلسلہ وار جاری رہے، تو یہ دمِ فساد یا استحاضہ ہو گا، اور اگر جاری نہ رہے تو اسے مستحاضہ کا حکم حاصل نہیں ہو گا۔ اور اس بات کا کوئی اعتبار نہیں کہ وہ اس سے پہلے مستحاضہ تھی، کیونکہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اسے شفا عطا فرما دے۔
اور ہم نے یہ جو کہا کہ یہ دمِ فساد یا استحاضہ ہے، تو اس کی بنیاد بعض فقہاء کے اس فرق پر ہے جو انہوں نے ان دونوں کے درمیان کیا ہے، کہ انہوں نے استحاضہ اس خون کو قرار دیا ہے جو حیض کے ساتھ متصل ہو، لہٰذا مستحاضہ عورت سفید رطوبت نہیں دیکھتی۔ یہ اختلاف دراصل نام کے اعتبار سے ہے، رہا حکم تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔
چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’صاحبِ حاوی کہتے ہیں: عورتیں چار قسم کی ہیں: پاک، حائض، مستحاضہ، اور دمِ فاسد والی۔ پاک وہ ہے جو بالکل صاف ہو، حائضہ وہ ہے جو اپنے وقت میں مکمل شرائط کے ساتھ حیض کا خون دیکھے، مستحاضہ وہ ہے جو حیض کے فورًا بعد ایسا خون دیکھے جو حیض نہ ہو، اور دمِ فاسد والی وہ ہے جسے ابتدا ہی میں ایسا خون آئے جو حیض نہ ہو۔
یہ صاحبِ حاوی کا کلام ہے۔ اور اس سے پہلے وہ یہ بھی کہتے ہیں: امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر عورت کو نو سال پورے ہونے سے پہلے خون نظر آئے تو وہ دمِ فاسد ہے، اور اسے استحاضہ نہیں کہا جائے گا، کیونکہ استحاضہ صرف حیض کے بعد ہی ہوتا ہے۔۔۔
تو یہ صاحبِ حاوی کا کلام ہے، اور اس کا حاصل یہ ہے کہ استحاضہ کا اطلاق صرف اس خون پر ہوتا ہے جو حیض کے ساتھ متصل ہو اور حیض نہ ہو۔
اور جو خون حیض کے ساتھ متصل نہ ہو، وہ دمِ فساد ہے، اور اسے استحاضہ نہیں کہا جاتا۔ اس قول پر ایک جماعت نے موافقت کی ہے۔
اور اکثر علماء کا کہنا ہے کہ ان سب کو استحاضہ ہی کہا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ استحاضہ کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو حیض کے خون کے ساتھ متصل ہو، اور اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے؛ اور دوسری وہ جو اس سے متصل نہ ہو، جیسے کم عمر لڑکی جس نے ابھی نو سال پورے نہ کیے ہوں اور وہ خون دیکھے، یا بڑی عورت جو خون دیکھے اور وہ ایک دن اور ایک رات سے کم میں منقطع ہو جائے، تو اس کا حکم حدث ہی کا ہے۔
ان دونوں قسموں کی صراحت ابو عبد اللہ زبیری، قاضی حسین، متولی، بغوی، سرخسی نے ’’الأمالی‘‘ میں، صاحبِ العدۃ، اور دیگر اہلِ علم نے کی ہے۔ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے، اور اہلِ لغت، جیسے ازہری وغیرہ، کے اس قول کے موافق ہے کہ استحاضہ وہ خون ہے جو اپنے وقت کے علاوہ جاری ہو۔‘‘
یہ عبارت ’’المجموع‘‘ (جلد 2، صفحہ 346) سے نقل کی گئی ہے۔
اور ’’روضۃ الطالبین‘‘ (جلد 1، صفحہ 137) میں ہے:
’’استحاضہ کا اطلاق کبھی ہر اس خون پر کیا جاتا ہے جو عورت حیض اور نفاس کے خون کے علاوہ دیکھے، خواہ وہ حیض کے ساتھ متصل ہو جو اس کی آخری مدت سے بھی تجاوز کر گیا ہو، یا متصل نہ ہو، جیسے وہ خون جو سات سال کی عمر میں دیکھا جائے۔ اور کبھی اس کا اطلاق خاص اسی خون پر کیا جاتا ہے جو حیض کے ساتھ متصل ہو، اور اس کے علاوہ کو دمِ فساد کہا جاتا ہے۔ اور ان تمام صورتوں میں احکام میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔‘‘ ختم شد
واللہ اعلم