قرب قیامت کے متعلق متعدد علامات پر مشتمل ایک حدیث کے بارے میں سوال

سوال: 334348

درج ذیل حدیث کی صحت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (میری امت پر ایک وقت آئے گا جس میں خشوع ختم ہو جائے گا، اور ایک زمانہ آئے گا جس میں اچانک اموات رونما ہوں گی، اور ایک زمانہ آئے گا جس میں زلزلے بہت کثرت کے ساتھ آئیں گے۔ پھر ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمان صرف انہی لوگوں کو سلام کرے گا جن سے اس کی جان پہچان ہو گی، اور ایک زمانہ آئے گا جس میں قتل بہت زیادہ ہو جائے گا۔ ایک زمانہ آئے گا جس میں لوگ گناہوں پر فخر کرنے لگیں گے۔ ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! یہ کب ہو گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یہ آخری زمانے میں ہو گا، اور جب یہ سب چیزیں رونما ہوں تو پھر قیامت قائم ہونے کا انتظار کرو۔)

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

سوال میں مذکور مکمل حدیث ہمیں ایک ہی جگہ پر نہیں ملی۔

البتہ جو کچھ اس میں ذکر ہوا ہے وہ متعدد روایات کے مختلف جملوں میں ملتا ہے۔

اول:

خشوع کا خاتمہ:

یہ روایت جبیر بن نفیر نے عوف بن مالک سے بیان کی ہے کہ آپ کہتے ہیں: "ہم ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور پھر فرمایا: (یہ علم کو اٹھا لیے جانے کا وقت ہے۔) تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا جس کا نام زیاد بن لبید تھا: اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا حالانکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے! اور ہم یہ کتاب اپنے بچوں اور عورتوں کو سکھاتے بھی رہیں گے؟! اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (میں تو آپ کو اہل مدینہ میں بہت بڑا سمجھدار شخص سمجھتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تورات و انجیل کے پیروکاروں کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا اور کہا کہ حالانکہ ان کے پاس اللہ کی کتاب کا کچھ نہ کچھ حصہ بھی ہے!)

اس کے بعد جیبر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے عید گاہ میں ہوئی اور جبیر نے انہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی تو شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: عوف نے بالکل سچ کہا ہے۔ پھر پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ علم کے اٹھ جانے کا مطلب کیا ہے؟
جبیر کہتے ہیں میں نے کہا: نہیں مجھے علم نہیں ہے۔ تو شداد نے کہا: علمائے کرام کا چلے جانا مراد ہے۔ اور کیا آپ کو علم ہے کہ کون سا علم سب سے پہلے اٹھایا جائے گا؟ جبیر کہتے ہیں میں نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے بتلایا: سب سے پہلے خشوع اٹھایا جائے گا، حتی کہ کوئی آپ کو خشوع کرنے والا شاید ہی کوئی ملے۔"
مسند امام احمد: (39 / 417 - 418) اور امام حاکم نے اسے "المستدرك" (1 / 98 - 99) میں روایت کیا ہے، اور اسے صحیح قرار دیا ہے، نیز امام حاکم کی ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت بھی کی ہے۔

دوم:

اچانک اموات رونما ہونا۔

اس حوالے سے امام طبرانی رحمہ اللہ "المعجم الصغير" (1132) اور "المعجم الأوسط" (9 / 147) میں روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ہیثم بن خالد مصیصی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبد الکبیر بن معافی بن عمران نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شریک نے روایت بیان کی وہ عباس بن ذریح سے ، وہ شعبی سے اور وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قرب قیامت میں یہ بھی شامل ہے کہ: ہلال قدرے موٹا نظر آئے گا، اور اسے دوسری رات کا کہا جانے لگے گا، مسجدوں کو گزر گاہیں بنا لیا جائے گا، اور اچانک اموات رونما ہوں گی۔)

اس روایت کی سند میں ہیثم بن خالد مصیصی ضعیف ہے۔

علامہ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

ہیثم بن خالد بن عبد اللہ مصیصی جو کہ عبد الکریم بن معافی سے بیان کرتا ہے، ان کے متعلق امام دارقطنی کہتے ہیں: وہ ضعیف ہے۔ ختم شد
ماخوذ از: "المغني في الضعفاء" (2 / 716)

لیکن اس کی متابعت یوسف بن سعید بن مسلم نے کی ہے، جیسے کہ ضیاء المقدسی کی کتاب: "المختارة" (2325) میں ہے کہ:
ہمیں شہاب بن محمود حاتمی نے ہرات میں روایت بیان کی کہ عبد السلام بن احمد بن اسماعیل نے انہیں بتلایا کہ انہیں محمد بن ابو مسعود فارسی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبد الرحمن بن ابو شریح نے بیان کیا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ: تمہیں یحیی بن محمد بن صاعد نے حدیث بیان کی تھی کہ ہمیں یوسف بن سعید بن مسلم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبد الکبیر بن معافی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شریک نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عباس بن ذریح نے انہیں شعبی نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قرب قیامت میں یہ بھی شامل ہے کہ: پہلی رات کے ہلال کو دیکھا جائے گا لیکن وہ محسوس دوسری رات کا ہو گا، اور لوگوں میں اچانک موت رونما ہو گی، اور مسجدوں کو گزر گاہیں بنا لیا جائے گا۔

لیکن دونوں روایات میں سند کا مدار شریک پر ہے، اور شریک جب تنہا روایت بیان کرے اور اس کی کوئی متابعت بھی نہ کرے تو قوی نہیں ہوتا، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابن الجعد نے اسی روایت کو مرسل بھی نقل کیا ہے، چنانچہ بغوی مسند ابن الجعد: (2489) میں روایت کرتے ہیں کہ: ہمیں علی نے روایت بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شریک نے روایت بیان کی، وہ عباس بن ذریح سے اور وہ عامر شعبی سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ: "یقیناً قیامت کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ ہلال بالکل واضح نظر آئے گا، تو پہلی رات کے چاند کو کہا جائے گا کہ یہ دوسری رات کا ہے۔ اور قیامت کے قریب انسان مسجد سے گزر جائے گا اور اس میں دو رکعات ادا نہیں کرے گا۔ اور اچانک موت عام ہو گی۔"

شریک کے مرسل روایت کرنے پر حماد بن سلمہ نے عاصم ابن بہدلہ سے روایت کرتے ہوئے متابعت کی ہے، جیسے کہ علامہ دانی نے "السنن الواردة في الفتن" (4 / 789) میں حماد بن سلمہ کی مرسل روایت کو بیان کیا ہے۔

علامہ دانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں علی بن محمد بن عبد اللہ نے روایت بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبد اللہ بن مسرور نے روایت بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبد اللہ بن سہل اندلسی نے روایت بیان کی، وہ محمد بن یحیی سے، وہ اپنے والد سے وہ حماد بن سلمہ سے وہ عاصم ابن بہدلہ سے وہ شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اچانک موت یقیناً قیامت کی نشانی ہے ۔)

یہی روایت دیگر اسانید سے بھی آئی ہے۔

الشیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ سند مرسل اور حسن درجے کی ہے۔ اس کی سند میں محمد بن یحیی ہے جو کہ سعید بن فروخ القطان کا بیٹا ہے، اور یہ ثقہ راوی ہے۔

جبکہ اس کا والد حافظ الحدیث ثقہ اور امام ہے، ان سے اوپر کے راوی مشہور و معروف ہیں۔" ختم شد
"السلسلة الصحيحة" (5 / 370)

علل دارقطنی (12 / 163)میں ہے کہ:
"پوچھا گیا: عامر شعبی کی انس رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یقیناً قیامت کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ ہلال بالکل واضح نظر آئے گا، تو پہلی رات کے چاند کو کہا جائے گا کہ یہ دوسری رات کا ہے۔ اور قیامت کے قریب انسان مسجد سے گزر جائے گا اور اس میں دو رکعات ادا نہیں کرے گا۔ اور اچانک موت عام ہو گی۔"
تو انہوں نے جواب دیا: اس روایت کو عبد الکبیر بن معافی ، شریک سے ، وہ عباس بن ذریح سے وہ شعبی سے اور وہ انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ اسے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بیان کرتے ہیں۔
جبکہ دیگر راوی اسے شعبی سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ واللہ اعلم" ختم شد

اسی روایت کو ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف: (7 / 199) میں شعبی سے روایت کیا ہے، لیکن وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مرفوعاً نہیں ہے۔

کیونکہ اس میں روایت اس سند سے بیان ہوئی ہے کہ: ابن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبد الرحیم بن سلیمان نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مجالد نے اور وہ شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ: کہا جاتا تھا کہ: قرب قیامت کی علامت اچانک موت ہے۔

لیکن اس کی سند میں مجالد نامی راوی ضعیف ہے۔

علامہ ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میں کہتے ہیں:
"مجالد بن سعید ہمدانی قصہ گو تھا، یہ شعبی اور قیس بن ابو حازم سے روایت کرتا ہے، اس کے شاگردوں میں اس کا بیٹا اسماعیل سمیت شعبہ اور قطان شامل ہیں۔ ابن معین رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ قوی راوی نہیں ہے۔ ایک بار امام نسائی نے اسے ثقہ بھی قرار دیا ہے۔" ختم شد
الکاشف: (2 / 239)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مجالد بن سعید بن عمیر ہمدانی، ان کی کنیت ابو عمرو الکوفی ہے۔ آپ قوی راوی نہیں تھے، عمر کے آخری حصے میں حافظہ بدل گیا تھا۔" ختم شد
"تقريب التهذيب" (ص 520)

ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب "مصنف" (7 / 200) میں مجاہد کے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔

چنانچہ ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں محمد بن بشر نے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں میں نے مجاہد بن ابی راشد کو کہتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ: مجاہد نے کہا: قیامت کی نشانیوں میں ناگہانی موت بھی شامل ہے۔

لیکن اس کی سند میں مجاہد بن ابو راشد ہے۔

جسے یحیی بن معین ابن طہمان کے مطابق "ثقہ" قرار دیتے ہیں۔ دیکھیں صفحہ: (82)

اور تاریخ ابن معین میں (3 / 494)دوری کی روایت کے مطابق درج ذیل تفصیل ہے:

"ہمیں عباس نے بیان کیا کہ مجھے عثمان بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن بشر عبدی نے روایت بیان کی، وہ مجاہد بن رومی سے اور وہ مجاہد سے بیان کرتے ہیں کہ: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک "تراز" بہت زیادہ نہیں ہو جائے گا، پوچھا گیا: یہ "تراز" کیا چیز ہے؟ تو کہا: اچانک اموات۔

کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت یحیی بن معین کو بیان کی اور انہیں بتلایا کہ ہمیں یہ روایت عثمان نے بیان کی تھی۔ تو یحیی بن معین کہنے لگے: اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ محمد بن بشر نے مجاہد بن رومی سے کبھی کوئی روایت سنی ہی نہیں ہے۔ اس راوی سے سفیان وغیرہ بیان کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ محمد بن بشر نے یہ روایت ارسال کے ساتھ انہیں بیان کی ہے۔" ختم شد

حاصل کلام:

اس حدیث کی کوئی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تک پایہ ثبوت تک نہیں پہنچ سکی، لیکن اس حدیث کا مفہوم قرب قیامت کے حالات سے مختلف نہیں ہے؛ کیونکہ قرب قیامت کے قریب گناہوں کی کثرت ہو جائے گی اور پھر اس کی سزائیں بھی بڑھ جائیں گی، اور ممکن ہے کہ آج کل روڈ حادثات وغیرہ کی صورت میں کثرت کے ساتھ ہونے والی اموات انہی اچانک اموات میں شامل ہوں۔

سوم:

کثرت کے ساتھ زلزلے اور قتل کے متعلق سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک علم دین اٹھ نہ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزر ے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور “ ہرج ” کی کثرت ہو جائے گی اور ہرج سے مراد قتل ہے،قتل ہے۔ اور تمہارے درمیان دولت ومال کی اتنی کثرت ہو گی کہ سرمایہ بہہ پڑے گا) اس حدیث کو امام بخاری: (1036) اور مسلم : (157) نے روایت کیا ہے۔

چہارم:

صرف جان پہچان کے لوگوں سے سلام، یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں منقول ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قیامت سے پہلے صرف جان پہچان کے لوگوں سے سلام کیا جائے گا۔ تجارت اتنی عام ہو جائے گی کہ بیوی بھی تجارت کے لیے اپنے خاوند کی مدد کرے گی۔ قطع رحمی کی جائے گی۔ جھوٹی گواہی دی جائے گی۔ سچی گواہی چھپائی جائے گی، اور تحریریں بہت زیادہ عام ہو جائیں گی۔) اس روایت کو امام احمد نے مسند: (6 / 415 - 416) نے روایت کیا ہے اور مسند احمد کے محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

پنجم:

گناہوں پر فخر کرنے کے حوالے سے ہمیں کوئی ایسی حدیث نہیں ملی کہ جس میں اس بات پر صراحت کے ساتھ بات کی گئی ہو، البتہ عبد الرحمن بن غنم اشعری سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو عامر اور ابو مالک اشعری نے بتلایا اور اللہ کی قسم انہوں نے بالکل غلط بات نہیں کی سچی بات کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ( میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زنا کاری ، ریشم پہننا ، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے ۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے ۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) انہیں ہلاک کر دے گا اور پہاڑ کو ( ان پر )گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر کی صورتوں میں مسخ کر دے گا ۔" اسے بخاری : (5590)نے روایت کیا ہے۔

تو اس حدیث کی رو سے محسوس ہوتا ہے کہ گناہ پر فخر عام طور پر تبھی ہو گا جب انسان کسی گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھے، بلکہ گناہ کو اچھا عمل سمجھے۔ اس اعتبار سے اس حدیث میں اس جملے کی تصدیق موجود ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android