کیا مذی ملنے سے عورت کے رحم کی رطوبتیں ناپاک ہو جاتی ہیں؟

سوال 343109

کیا عورت کی شرم گاہ سے نکلنے والی رطوبتیں مذی کے ساتھ ملنے سے ناپاک ہو جاتی ہیں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

اس سے پہلے ویب سائٹ پر سوال نمبر: (50404) کے جواب میں بیان کیا جا چکا ہے کہ عورت کے رحم سے نکلنے والی یہ رطوبتیں پاک ہیں۔

دوم:

مذی کے ناپاک ہونے اور اس سے پاکی حاصل کرنے کے حکم پر دلائل موجود ہیں۔

چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’مجھے بہت مذی آتی تھی۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، اس لیے میں نے ایک شخص سے کہا کہ وہ آپ سے اس کا حکم پوچھے۔ اس نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: (وضو کرو اور اپنی شرم گاہ دھو لو۔)‘‘ اسے بخاری، حدیث نمبر: (269)، اور مسلم، حدیث نمبر: (303)، نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح امام عبدالرزاق نے ’’المصنف‘‘ ‏(1/159) میں ثوری، منصور اور مجاہد کے واسطے سے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے مذی، ودی اور منی کے بارے میں فرمایا: ’’منی نکلنے سے غسل لازم ہوتا ہے، جبکہ مذی اور ودی نکلنے سے وضو لازم ہوتا ہے۔ آدمی اپنے عضوِ تناسل کا سرا دھوئے اور وضو کرے۔‘‘

جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے، یہاں تک کہ بعض نے اسے اجماعی مسئلہ قرار دیا ہے۔

ابن عبدالبر رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:

’’وہ مذی جو معروف ہے اور عام طور پر نکلتی ہے۔۔۔

اس کے بارے میں اجماع ہے۔ مسلمانوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ اس سے وضو واجب ہوتا ہے، اور ناپاک ہونے کی وجہ سے اسے دھونا بھی واجب ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’التمہید‘‘ ‏(21/207)۔

سوم:

پانی کے علاوہ دیگر مائع  کا حکم بھی نجاست سے ملنے کی صورت میں پانی جیسا ہے۔ اگر نجاست کی اصل ان میں باقی رہے اور اس کے آثار مائع میں ظاہر ہوں تو وہ ناپاک ہو جائیں گے۔ لیکن اگر مائع میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور نجاست کے آثار بھی ظاہر نہ ہوں تو اسے پاک قرار دیا جائے گا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:

’’پانی کے بارے میں صحیح موقف یہ ہے کہ وہ نجاست کی وجہ سے تبدیل ہوئے بغیر ناپاک نہیں ہوتا، خواہ یہ حکم ہر مقدار کے پانی کے لیے مانا جائے یا صرف زیادہ پانی کے لیے۔ دوسرے مائعات کے بارے میں بھی درست موقف یہی ہے۔

غرض ان دونوں صورتوں میں پانی اور دوسرے مائعات کا حکم یکساں قرار دینا ممکن ہے۔ نجاست دور کرنے کے مسئلے میں بھی نص اور قیاس کا یہی تقاضا ہے، اور پانی یا دوسرے مائعات سے نجاست کے ملنے کے مسئلے میں بھی۔

جو شخص نصوص سے ثابت شدہ، متفقہ اصولوں اور شرعی احکام میں معتبر شرعی حکمتوں پر غور کرے، اس پر واضح ہو جائے گا کہ یہی سب سے درست قول ہے؛ کیونکہ پانی اور دوسرے مائعات کو تبدیلی کے بغیر ناپاک قرار دینا نصوص کے ظاہری مفہوم اور قیاس سے بعید ہے۔‘‘ ختم شد
’’مجموع الفتاویٰ‘‘ ‏(21/508)۔

اس اصول کی بنا پر، اور اس وجہ سے کہ مذی اور ان رطوبتوں کے نکلنے کا راستہ ایک ہی ہے، مذی ان رطوبتوں کو ناپاک کر دیتی ہے، خصوصاً جب مذی زیادہ ہو؛ کیونکہ یہ رطوبتیں اتنی زیادہ نہیں ہوتیں کہ مذی ان میں اس طرح گھل مل جائے کہ اس کے اوصاف ختم ہو جائیں۔

رحیبانی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:

’’اگر ناپاک چیز کسی دوسری چیز میں مل جائے اور اس کی تعیین ممکن نہ رہے تو حرمت کے پہلو کو غالب رکھتے ہوئے سب کا استعمال حرام ہوگا۔ اسی طرح اگر وہ مائع ہو تو بھی حدیث کی بنا پر یہی حکم ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’مطالب أولی النہیٰ‘‘ ‏(1/239)۔ نیز دیکھیے: ’’کشاف القناع‘‘ ‏(1/188)، مرداوی کی ’’الإنصاف‘‘ ‏(1/344)۔

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’بہت تھوڑا پانی عموماً نجاست سے متاثر ہو جاتا ہے، اس لیے اسے بہا دینا اور اس سے بچنا چاہیے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال کر پی لے تو اس میں موجود چیز کو بہا دے، پھر برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔) اسے مسلم نے میں روایت کیا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کے زیر استعمال برتن عموماً چھوٹے ہوتے ہیں، جو کتے کے منہ ڈالنے اور نجاست پڑنے سے متاثر ہو جاتے ہیں، خواہ نجاست کم ہی ہو۔ لہٰذا جب ان میں نجاست پڑ جائے تو احتیاط اور شبہے سے بچنے کے لیے ان کے اندر موجود چیز کو بہا دینا واجب ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو چیز تمہیں شک میں ڈالے، اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شبہات سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کر لیا۔)‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’مجموع فتاویٰ ومقالات الشیخ ابن باز‘‘ ‏(10/16–17)۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

نجاست دور کرنا

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android