مریض کے لیے موزوں پر مسح کی مدت

سوال 95230

میری عمر ساٹھ سال ہے اور میں کمر کے مرض میں مبتلا ہوں جس کی وجہ سے میرے لیے وضو کے وقت پاؤں دھونا مشکل ہوتا ہے۔ تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں لمبے عرصے تک موزوں پر مسح کرتا رہوں؟

جواب کا خلاصہ

آپ پر لازم ہے کہ موزوں پر مسح کی مقررہ مدت کی پابندی کریں۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے تو پھر موزے پر مسح کرنا جائز نہیں رہتا، بلکہ انہیں اتار کر نئے وضو کے ساتھ پہننا ہو گا۔ البتہ مدت ختم ہونے سے پہلے اگر آپ وضو کی حالت میں ہیں تو اس وضو کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں یہاں تک کہ آپ کا وضو ٹوٹ جائے۔ رہی بات پاؤں دھونے میں مشقت کی تو آپ اس پر قابو پا سکتے ہیں، مثلاً کرسی پر بیٹھ کر پاؤں دھو لیں یا جھکے بغیر ان پر پانی ڈال لیں۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

موزوں پر مسح کی مدت:

صحیح سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ: مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔

چنانچہ صحیح مسلم (276) میں شریح بن ہانی کہتے ہیں: ’’میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ اس پر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر کی ہیں۔‘‘

اسی طرح ترمذی (95)، ابو داود (157) اور ابن ماجہ (553) میں حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن۔‘‘ (البانی نے اسے ’’صحیح ترمذی‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔)

موزوں پر مسح کی مدت کا آغاز کب ہو گا؟

اہلِ علم کے راجح قول کے مطابق مسح کی مدت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب وضو ٹوٹنے کے بعد پہلی بار مسح کیا جائے، نہ کہ جب موزے پہنے گئے ہوں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نماز فجر کے لیے وضو کرے اور موزے پہن لے، پھر صبح نو بجے اس کا وضو ٹوٹے اور وہ وضو نہ کرے، پھر 12 بجے دن وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرے تو مسح کی مدت کا آغاز 12 بجے سے ہو گا، اور ایک دن اور رات تک جاری رہے گا، یعنی پورے 24 گھنٹے۔

اس حوالے سے امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’امام اوزاعی اور ابو ثور کا کہنا ہے کہ مدت کا آغاز اس وقت سے ہو گا جب وضو ٹوٹنے کے بعد پہلی بار مسح کیا جائے، اور یہی روایت امام احمد اور داود سے منقول ہے، اور یہی دلائل کی روشنی میں راجح ہے، اور ابن منذر نے بھی اسے اختیار کیا ہے۔ یہی بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المجموع : (1/512)

لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ مسح کی مقررہ مدت کی پابندی کریں۔ چنانچہ جب مدت ختم ہو جائے تو موزے پر مسح جائز نہیں، چنانچہ آپ موزے اتاریں اور مکمل وضو کر کے موزے پہنیں، تاہم محض مدت پوری ہونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لیے اگر مدت ختم ہونے کے وقت آپ وضو کی حالت میں ہیں تو وہ وضو درست ہے اور آپ اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں یہاں تک کہ آپ کا وضو ٹوٹ جائے۔

بیماری کی وجہ سے لمبی مدت کے لیے موزوں پر مسح کرنا

پاؤں دھونے میں مشقت کی جو بات آپ نے ذکر کی ہے، اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ آپ کرسی پر بیٹھ کر پاؤں دھو سکتے ہیں یا جھکے بغیر ان پر پانی ڈال سکتے ہیں۔

اس حوالے سے امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ہمارے نزدیک غسل اور وضو میں اعضا کو ملنا سنت ہے، فرض نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اعضائے وضو پر صرف پانی بہا دے اور ہاتھ سے نہ ملے، یا پانی میں غوطہ لگا لے تو اس کا وضو اور غسل درست ہو گا۔ یہی جمہور علما کا قول ہے، سوائے امام مالک اور مزنی کے، جن کے نزدیک اعضائے غسل کو ملنا شرط ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المجموع : (2/214)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (90218) کا جواب ملاحظہ کریں۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

موزوں اور جرابوں پر مسح

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android