جواب نمبر (176951) میں اس مسئلے کے حکم پر قطعی فیصلہ نہیں دیا گیا، اور نہ ہی دوسرے قول کو غلط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اس جواب میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہ ان مسائل میں سے ہے جن میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف قوی ہے؛ اس لیے کہ اس بارے میں کوئی صریح اور صحیح نص موجود نہیں۔ اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ ’’احتیاط اور بری الذمہ ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس ہوا کے نکلنے پر وضو کر لیا جائے‘‘۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کسی عورت سے یہ ہوا نکلے اور وہ وضو کیے بغیر نماز پڑھ لے تو اس کی نماز کے باطل ہونے کا قطعی حکم دیا جا رہا ہے؛ کیونکہ ہم نے تو خود ہی ایسے اہلِ علم کا ذکر کیا ہے جو ایسی خاتون کی نماز کو صحیح کہتے ہیں!
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جب بھی اپنی اگلی شرمگاہ سے نکلنے والی ہوا پر وضو کر لے تو اس کی نماز تمام اہلِ علم کے متفقہ موقف کے مطابق صحیح ہو گی، اور اس نے نہ کوئی قابلِ مذمت کام کیا ہو گا، نہ ایسا جس پر اسے ملامت کیا جائے، اور نہ ہی وہ اس طرح کسی وسوسے یا اس جیسے کسی اور امر میں مبتلا ہو گی؛ بلکہ ایسے طریقے سے عبادت انجام دینا جس کی صحت میں اختلاف نہ ہو، اہلِ علم کے نزدیک مستحب امر ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’یقیناً اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ اختلافی صورت سے بچنے کی ترغیب دی جائے، بشرطیکہ اس بچاؤ کی وجہ سے کسی سنت میں خلل نہ آئے، یا کسی دوسرے اختلاف میں نہ پڑنا پڑے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح صحیح مسلم (2 / 23)
اور اس کی دلیل سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’حلال واضح ہے، اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، تو جو شخص مشتبہ امور سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا۔۔۔‘‘ اسے بخاری (52) اور مسلم (1599) نے روایت کیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اہل علم کے مابین اختلافی صورت سے اپنے آپ کو بچانا ؛محض احتیاط کے طور پر ہوتا ہے، چنانچہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب سنت معلوم نہ ہو اور حق واضح نہ ہوا ہو؛ کیونکہ جو شخص شبہات سے بچتا ہے، وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیتا ہے۔ لیکن جب شبہ زائل ہو جائے اور سنت واضح ہو جائے، تو اختلافی صورت سے نکلنے کا مطالبہ بے معنی ہو جاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح عمدة الفقہ (1 / 417)
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مسئلے میں موجود اس قوی اختلاف سے نکلنا مستحب ہے، اور اس سے نکلنے میں کسی دوسری سنت کے خلاف عمل بھی لازم نہیں آتا؛ بلکہ یہ مسئلے کی دلیل کی تائید ہی کرتا ہے، جیسا کہ مذکورہ جواب میں بیان کیا گیا ہے:
’’ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ہوا کے نکلنے کی صورت میں وضو کر لینا زیادہ محتاط اور ذمہ بری کرنے والا طرزِ عمل ہے؛ اس لیے کہ اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف قوی ہے، اور نیز اس بنا پر بھی کہ یہ قول محض احتیاط ہی نہیں بلکہ دلائل کے ظاہر کے زیادہ قریب بھی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کی بنا پر: (وضو آواز سننے یا بو آنے پر ہی کیا جاتا ہے۔) اسے ترمذی (74) نے روایت کیا ہے اور کہا: ’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے ‘‘، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع میں حدیث نمبر (7572) کے تحت صحیح قرار دیا ہے۔
امام ابن المبارک رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ علم نے اسی حدیث اور اس مسئلے سے متعلق دیگر احادیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ پچھلی شرمگاہ سے نکلنے والی ہوا وضو کو توڑ دیتی ہے۔ ‘‘
واللہ اعلم