محتاط موقف یہی ہے کہ عورت کی اگلی شرمگاہ سے نکلنے والی ہوا سے بھی وضو کیا جائے۔

سوال 296503

میرے ذہن میں عورت سے نکلنے والی ہوا کے بارے میں ایک سوال ہے۔ سوال نمبر 111818 اور 2175 میں آپ نے فرمایا ہے کہ اس سے وضو ٹوٹتا نہیں، لیکن سوال نمبر 176951 میں آپ نے کہا ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس بنا پر میں تذبذب میں ہوں اور سمجھ نہیں پا رہی کہ میں کیا کروں، کیونکہ بعض اوقات نماز کے دوران مجھ سے یہ ہوا نکل جاتی ہے اور اس کے ساتھ آواز بھی ہوتی ہے۔ تو کیا اگر یہ آواز کے ساتھ نکلے تو مجھے نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی یا نہیں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جواب نمبر (176951) میں اس مسئلے کے حکم پر قطعی فیصلہ نہیں دیا گیا، اور نہ ہی دوسرے قول کو غلط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اس جواب میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہ ان مسائل میں سے ہے جن میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف قوی ہے؛ اس لیے کہ اس بارے میں کوئی صریح اور صحیح نص موجود نہیں۔ اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ ’’احتیاط اور بری الذمہ ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس ہوا کے نکلنے پر وضو کر لیا جائے‘‘۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کسی عورت سے یہ ہوا نکلے اور وہ وضو کیے بغیر نماز پڑھ لے تو اس کی نماز کے باطل ہونے کا قطعی حکم دیا جا رہا ہے؛ کیونکہ ہم نے تو خود ہی ایسے اہلِ علم کا ذکر کیا ہے جو ایسی خاتون کی نماز کو صحیح کہتے ہیں!

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جب بھی اپنی اگلی شرمگاہ سے نکلنے والی ہوا پر وضو کر لے تو اس کی نماز تمام اہلِ علم کے متفقہ موقف کے مطابق صحیح ہو گی، اور اس نے نہ کوئی قابلِ مذمت کام کیا ہو گا، نہ ایسا جس پر اسے ملامت کیا جائے، اور نہ ہی وہ اس طرح کسی وسوسے یا اس جیسے کسی اور امر میں مبتلا ہو گی؛ بلکہ ایسے طریقے سے عبادت انجام دینا جس کی صحت میں اختلاف نہ ہو، اہلِ علم کے نزدیک مستحب امر ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’یقیناً اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ اختلافی صورت سے بچنے کی ترغیب دی جائے، بشرطیکہ اس بچاؤ کی وجہ سے کسی سنت میں خلل نہ آئے، یا کسی دوسرے اختلاف میں نہ پڑنا پڑے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح صحیح مسلم (2 / 23)

اور اس کی دلیل سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’حلال واضح ہے، اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، تو جو شخص مشتبہ امور سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا۔۔۔‘‘ اسے بخاری (52) اور مسلم (1599) نے روایت کیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل علم کے مابین اختلافی صورت سے اپنے آپ کو بچانا ؛محض احتیاط کے طور پر ہوتا ہے، چنانچہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب سنت معلوم نہ ہو اور حق واضح نہ ہوا ہو؛ کیونکہ جو شخص شبہات سے بچتا ہے، وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیتا ہے۔ لیکن جب شبہ زائل ہو جائے اور سنت واضح ہو جائے، تو اختلافی صورت سے نکلنے کا مطالبہ بے معنی ہو جاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح عمدة الفقہ (1 / 417)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مسئلے میں موجود اس قوی اختلاف سے نکلنا مستحب ہے، اور اس سے نکلنے میں کسی دوسری سنت کے خلاف عمل بھی لازم نہیں آتا؛ بلکہ یہ مسئلے کی دلیل کی تائید ہی کرتا ہے، جیسا کہ مذکورہ جواب میں بیان کیا گیا ہے:

’’ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ہوا کے نکلنے کی صورت میں وضو کر لینا زیادہ محتاط اور ذمہ بری کرنے والا طرزِ عمل ہے؛ اس لیے کہ اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف قوی ہے، اور نیز اس بنا پر بھی کہ یہ قول محض احتیاط ہی نہیں بلکہ دلائل کے ظاہر کے زیادہ قریب بھی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کی بنا پر: (وضو آواز سننے یا بو آنے پر ہی کیا جاتا ہے۔) اسے ترمذی (74) نے روایت کیا ہے اور کہا: ’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے ‘‘، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع میں حدیث نمبر (7572) کے تحت صحیح قرار دیا ہے۔

امام ابن المبارک رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ علم نے اسی حدیث اور اس مسئلے سے متعلق دیگر احادیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ پچھلی شرمگاہ سے نکلنے والی ہوا وضو کو توڑ دیتی ہے۔ ‘‘

واللہ اعلم

حوالہ جات

نواقض وضو

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android