اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

ذبيحہ حلال ہونے كے ليے بسم اللہ كى شرط

06-10-2008

سوال 85669

قربانى پر بسم اللہ نہ پڑھنے كا حكم كيا ہے، خاص كر جب ذبح كرنے والا شخص نماز ادا نہ كرتا ہو ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

تارك نماز كى ذبيحہ حلال نہيں، چاہے وہ ذبح كرتے وقت بسم اللہ پڑھے يا نہ پڑھے، مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 70278 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

رہا مسئلہ ذبيحہ پر بسم اللہ پڑھنے كا تو فقھاء كے اس ميں تين اقوال پائے جاتے ہيں:

پہلا قول:

امام شافعى كے ہاں يہ صرف مستحب ہے.

دوسرا قول:

احناف مالكيہ اور حنابلہ كے ہاں يہ ذبيحہ حلال ہونے كے ليے شرط ہے، ليكن اگر بسم اللہ نہ پڑھے تو وہ مباح ہے.

تيسرا قول:

ظاہرى حضرات كے ہاں اور امام مالك اور امام احمد سے ايك روايت ميں يہ شرط ہے، اور كسى بھى حالت ميں ساقط نہيں ہو سكتى، نہ تو بھول كر اور نہ ہى عمدا اور نہ ہى جہالت ميں. سلف رحمہ اللہ كى ايك جماعت كا بھى يہى قول ہے، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ نے يہى اختيار كيا ہے، اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور صحيح بھى يہى ہے "

ان كا كہنا ہے: انہوں نے درج ذيل فرمان بارى تعالى كے عموم سے استدلال كيا ہے:

اور تم اس سے مت كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہ ليا گيا ہو الانعام ( 121 ).

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كا خون بہے، اور اس پر بسم اللہ پڑھى گئى ہو تو وہ كھا لو "

تو كھانا حلال ہونے كے ليے بسم اللہ كى شرط لگائى، اور يہ معلوم ہے كہ جب شرط مفقود ہو جائے تو مشروط بھى مفقود ہوتا ہے، چنانچہ سارى شروط كى طرح جب بسم اللہ مفقود ہوئى تو اس كا حلال ہونا بھى مفقود ہو گا.

اس ليے جب كوئى نماز ادا كر لے اور وضوء كرنا بھول جائے تو اس پر نماز لوٹانى واجب ہے، اور اسى طرح اگر اس نے جہالت ميں بےوضوء ہو كر نماز ادا كر لى يعنى اس كا گمان تھا كہ ہوا خارج ہونے سے وضوء نہيں ٹوٹتا، يا يہ كہ اونٹ كا گوشت كھانے سے وضوء نہيں ٹوٹتا تو اسے دوبارہ نماز ادا كرنا ہو گى، كيونكہ مشروط شرط كے بغير صحيح نہيں ہوتا، اور اسى طرح اگر اس نےذبح كيا ليكن بھول كر يا جہالت كى بنا پر خون نہ بہايا تو وہ ذبيحہ حلال نہيں ہو گا، تو بسم اللہ ترك كرنا بھى اسى طرح ہے؛ كيونكہ حديث ايك ہے " انتہى.

ماخوذ از: الشرح الممتع ( 6 / 358 ).

مزيد آپ درج ذيل كتابوں كا مطالعہ بھىكريں.

العنايۃ شرح الھدايۃ ( 9 / 489 ) الفواكہ الدوانى ( 1 / 382 ) المجموع ( 8 / 387 ) المغنى ( 9 / 309 ).

اس بنا پر قربانى وغيرہ وہى شخص ذبح كر سكتا ہے جو نماز ادا كرتا ہو، اور اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ ذبح كرتے وقت اللہ كا نام لے اور بسم اللہ پڑھے.

اور تكبير كہنا مستحب ہے وہ اس طرح كہے: بسم اللہ واللہ اكبر.

بخارى اور مسلم ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دو سياہ اور سفيد جس ميں سفيدى زيادہ تھى مينڈھے ذبح كيے تو ميں نے ديكھا كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا قدم اس كى گردن كى سائڈ پر ركھا اور بسم اللہ پڑھى اور تكبير كہہ كر اپنے ہاتھ سے انہيں ذبح كيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5558 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1966 ).

واللہ اعلم .

تارک نماز ذبح کرنا
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔