سنت کے مطابق عمرہ کیسے ادا کیا جائے؟

سوال: 154979

میں چاہتا ہوں کہ جب میری اہلیہ بھارت سے آئے تو ہم دونوں عمرہ ادا کریں۔ براہ کرم ہمیں بتائیں کہ عمرہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور کن چیزوں کا اہتمام زیادہ کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔

جواب کا خلاصہ

عمرے کے درج ذیل اعمال ہیں:

  • جنابت کے غسل کی طرح غسل کرنا اور خوشبو لگانا۔
  • احرام کے کپڑے پہننا، مرد کے لیے تہبند اور چادر، اور عورت کے لیے کوئی بھی شرعاً جائز لباس۔
  • تلبیہ کہنا اور طواف تک تلبیہ کہتے رہنا۔
  • بیت اللہ کا سات چکروں میں طواف کرنا، جو کہ حجرِ اسود سے شروع ہو کر وہی پر ختم ہو گا۔
  • مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرنا۔
  • صفا اور مروہ کے درمیان سات چکروں میں سعی کرنا، جس کا صفا سے آغاز اور مروہ پر اختتام ہو گا۔
  • مردوں کے لیے بال منڈوانا یا کتروانا، اور عورتوں کے لیے صرف بال کتروانا۔
متعلقہ جوابات

جواب کا متن

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عمرے کا احرام باندھنے سے پہلے غسل اور خوشبو لگانا

میقات سے عمرے کا احرام باندھنا چاہیے۔ احرام باندھتے وقت غسل جنابت جیسا غسل کرنا چاہیے اور احرام سے پہلے غسل کرنا سنت ہے، مرد و عورت دونوں کے لیے، یہاں تک کہ حائضہ اور نفاس والی عورت بھی غسل کرے۔ پھر مرد اپنے سر اور داڑھی میں خوشبو لگائے اور اس کے بعد احرام کے کپڑے پہنے۔ اگر فرض نماز کا وقت ہو تو فرض نماز کے بعد احرام باندھے، ورنہ تحیۃ الوضو کے طور پر دو رکعت پڑھ لے، وضو کے نوافل کی نیت اس لیے کرنی ہے کہ احرام باندھنے کے لیے کوئی مخصوص نماز وارد نہیں ہے؛ اس لیے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم احرام کے لیے خصوصی نماز منقول ہی نہیں ہے۔ نیز یہ بھی کہ  حائضہ اور نفاس والی عورت تو ویسے ہی نماز نہیں پڑھے گی، لیکن عمرے کے لیے احرام باندھ سکتی ہے۔
پھر تلبیہ کہے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ عُمْرَةً، لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ، لَا شَرِيْكَ لَكَ

ترجمہ: یا اللہ! میں عمرہ کرنے کے لیے حاضر ہوں، یا اللہ! میں حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہونے کے لیے تیار ہوں، میں حاضر ہو! تیرا کوئی شریک نہیں، بار بار حاضر ہوں۔ یقیناً ہمہ قسم کی تعریف تیرے لیے ہی ہیں، اور تمام تر نعمتیں تیری طرف سے ہی ہیں، اور بادشاہی بھی تیری ہے، اور تیرا کوئی شریک نہیں۔
اور مکہ پہنچنے تک تلبیہ جاری رکھے۔
جب مکہ کے قریب پہنچے تو داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا۔
پھر مسجدِ حرام میں داخل ہو، دایاں پاؤں پہلے رکھے اور یہ دعا کرے:

بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ ،اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوْبِيْ، اَللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، أَعُوذُ بِاللهِ الْعَظِيْمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

ترجمہ: اللہ کے نام سے، درود و سلام ہوں اللہ کے رسول اپر، یا اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے، یا اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، میں عظمت والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کے معزز چہرے اور قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔

بیت اللہ کے کا طواف کا طریقہ اور مستحب دعائیں

جب طواف شروع کرے تو تلبیہ بند کر دے، حجرِ اسود کے پاس آئے تو اسے ہاتھ لگائے اور بوسہ دے، اگر ممکن نہ ہو تو صرف اشارہ کرے اور کہے:
بِسْمِ اللهِ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللَّهُمَّ إِيْمَاناً بِكَ، وَتَصْدِيْقاً بِكِتَابِكَ، وَوَفَاءً بِعَهْدِكَ، وَاتِّبَاعاً لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ: اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، یا اللہ! تجھ پر ایمان لاتے ہوئے ، اور تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے، تیرے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو نبھاتے ہوئے نیز تیرے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے میں طواف کا آغاز کرتا ہوں۔
پھر بیت اللہ کو بائیں جانب رکھ کر سات چکر لگائے، آغاز اور اختتام دونوں حجرِ اسود سے ہوں۔ صرف حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کو چھونا مشروع ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انہی کو چھوا  تھا؛ اس طواف کے دوران مردوں کے لیے سنت ہے کہ پہلے تین چکروں میں رمل کریں (یعنی تیز مگر قریب قدموں سے چلیں) اور پورے طواف میں اضطباع کریں (یعنی دائیں کندھے کو کھلا رکھیں اور چادر کا ایک کنارہ بائیں کندھے پر ڈالیں)۔ ہر مرتبہ حجرِ اسود کے سامنے آ کر تکبیر کہے، اور رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی، نیز ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔
باقی دورانِ طواف جو چاہے ذکر و دعا کرے۔

ہر چکر کے لیے مخصوص دعا کا کوئی وجود نہیں ہے؛ اس لیے جن کتابوں میں ہر چکر کے لیے الگ الگ دعائیں  لکھی ہوئی ہیں اور حجاج انہیں اپنے ہاتھوں میں اٹھائے پھرتے ہیں ان سے بچنا چاہیے؛ کیونکہ بدعت ہے  اس لیے کہ ان دعاؤں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ (مسلم)۔

یہ بھی یاد رہے کہ بعض لوگ رش اور بھیڑ کی صورت میں حطیم کے اندر سے گزر جاتے ہیں، یہ غلط ہے، کیونکہ حطیم کا زیادہ تر حصہ کعبہ شریف کا حصہ ہے۔ جو شخص اس کے اندر سے گزرے کہ ایک طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے نکل جائے تو اس کا طواف درست نہیں ہوتا۔

صفا و مروہ کی سعی : مراحل اور مستحب دعائیں

سات چکروں کے ذریعے طواف مکمل کرنے کے بعد مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھے، اگر وہاں جگہ نہ ملے تو مسجد کے کسی بھی اور حصے میں ادا کر لے۔
پھر صفا کی طرف جائے، جب قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھے:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
’’بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان چلے، اور جو کوئی نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر دان اور خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 158)

یہ آیت صرف پہلی مرتبہ پڑھے گا۔ پھر صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہو، ہاتھ اٹھائے، اللہ کی کبریائی بیان کرے، حمد کرے، اور یہ دعا پڑھے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ

ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، وہی یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، اور ہمہ قسم کی تعریفات بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام اتحادی افواج کو تن تنہا شکست سے دوچار کیا۔
پھر دعا کرے، پھر یہی الفاظ دوبارہ کہے، پھر دعا کرے، اور تیسری بار یہی الفاظ دہرائے۔

پھر مروہ کی طرف چل پڑے۔ سبز ستون (علامت) سے دوسرے سبز ستون تک دوڑ کر تیز چلے (بشرطیکہ اس عمل سے اسے خود یا دوسروں کو تکلیف نہ ہو)، پھر عام رفتار سے مروہ تک جائے۔ مروہ پر پہنچ کر صفا والی دعا اور ذکر کرے۔ اس طرح سے یہ ایک چکر ہوا۔

بال منڈوانے یا کتروانے کا طریقہ

پھر مروہ سے صفا واپس آئے، یہ دوسرا چکر ہوا۔ اسی طرح سات چکر مکمل کرے۔ صفا سے مروہ ایک شوط اور مروہ سے صفا دوسرا شوط شمار ہو گا۔
سات چکر مکمل کرنے کے بعد مرد اپنے سر کے تمام  منڈوا لے یا کتروا لے، بال کترواتے ہوئے اس طرح کرے کہ پورے سر کے بال واضح طور پر کٹ جائیں۔
عورت اپنے بالوں کی ہر لٹ کے آخری حصے سے ایک انگلی کے برابر (تقریباً ایک انچ) کتر لے۔

اس کے بعد احرام سے مکمل طور پر حلال ہو جائے، اور عمرہ کرنے والا شخص اپنی بیوی، خوشبو، لباس وغیرہ ہر چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

خلاصۂ اعمالِ عمرہ

  • جنابت کے غسل کی طرح غسل کرنا اور خوشبو لگانا۔
  • احرام کے کپڑے پہننا، مرد کے لیے تہبند اور چادر، اور عورت کے لیے کوئی بھی شرعاً جائز لباس۔
  • تلبیہ کہنا اور طواف تک تلبیہ کہتے رہنا۔
  • بیت اللہ کا سات چکروں میں طواف کرنا، جو کہ حجرِ اسود سے شروع ہو کر وہی پر ختم ہو گا۔
  • مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرنا۔
  • صفا اور مروہ کے درمیان سات چکروں میں سعی کرنا، جس کا صفا سے آغاز اور مروہ پر اختتام ہو گا۔
  • مردوں کے لیے بال منڈوانا یا کتروانا، اور عورتوں کے لیے صرف بال کتروانا۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android